پیدائش اور خاندان
مولانا منیر احمد علوی 5 مئی 1982 کو لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا آبائی علاقہ ضلع خوشاب ہے۔ آپ کے آٹھ بھائی اور ایک بہن ہیں۔
عقیدۂ ختمِ نبوت کے داعی، مصنف اور معلم۔ بیس سال سے ختمِ نبوت کے دفاع، دعوت و تبلیغ اور خدمتِ خلق میں مصروف۔
مولانا منیر احمد علوی 5 مئی 1982 کو لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا آبائی علاقہ ضلع خوشاب ہے۔ آپ کے آٹھ بھائی اور ایک بہن ہیں۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضرت عون کے واسطے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے، اسی لیے آپ اپنے نام کے ساتھ «علوی» کی نسبت لگاتے ہیں۔
ابتدائی پانچ جماعتیں ٹاؤن شپ کے سیکنڈری سکول میں پڑھیں، پھر میٹرک تک گورنمنٹ ہائی سکول میں تعلیم جاری رہی۔ میٹرک کے بعد مزید تعلیم کے لیے کالج میں داخلہ لیا۔
دینی تعلیم کا آغاز جامعہ عبداللہ بن عمر سے کیا اور فراغت جامعہ اشرفیہ لاہور سے ہوئی۔
آپ ابھی ابتدائی دینی تعلیم حاصل کر رہے تھے کہ ایک دن آپ کے مشفق و مہربان استاذ، مصلحِ امت نے آپ کی تشکیل ختمِ نبوت کے مبارک کاز پر فرما دی۔ آپ نے لبیک کہا اور بیس سال کا عرصہ اسی مشن پر اس جذبے سے لگا دیا:
«حضور ﷺ پر میری کل کائنات قربان»اسی تصور کے ساتھ وقت گزرتا ہے کہ ہر سانس پر حضور سرورِ دو جہاں ﷺ کا حق ہے، اور یہ سفر تاحیات جاری رہے گا۔
اللہ تعالیٰ نے آپ سے دین کے کئی شعبوں میں کام لیا: دعوتِ دین، دفاعِ دین، تبلیغِ دین، دعوتِ ایمان، رفاہِ عامہ اور ختمِ نبوت۔
دین کی دعوت کے لیے آپ نے قریہ قریہ اور گلی گلی سفر کیا اور ہر موقع پر اپنا کردار ادا کیا۔
آپ ہر موقع پر دین کی تبلیغ میں مصروفِ عمل رہتے ہیں۔ آپ کے قول، فعل اور تحریر سے یہی فکر ملتی ہے کہ اللہ کا دین سارے عالم میں زندہ ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو امت کے ایمان کو بچانے اور بڑھانے کا ذریعہ بنایا، اور کئی افراد اور خاندانوں کو اسلام کے دامن تک پہنچانے کا ذریعہ بھی۔ آپ کے ہاتھ پر سو سوا سو افراد نے اسلام قبول کیا۔
نبی مکرم ﷺ کی سنت کو زندہ کرتے ہوئے آپ رفاہِ عامہ میں مصروف رہے اور ہزاروں افراد کے کھانے کا ذریعہ بنے۔ اسلام کی آغوش میں آنے والوں کی کفالت کرتے ہیں: قیام و طعام، علاج معالجہ اور وقت کی ہر ضرورت میں۔
آپ مختلف مساجد، مدارس، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دیگر عصری اداروں میں لیکچر دیتے رہے ہیں، اور اب مستقل دینی لیکچرز کا سلسلہ جاری ہے۔
باطن کی اصلاح کے لیے آپ بزرگانِ دین کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے۔ ایک طویل عرصہ مصلحِ امت شیخ الحدیث صوفی محمد سرور صاحب سے تعلق رہا، اور ان کی وفات کے بعد مفتی محمد حسن صاحب سے۔
مفتی محمد حسن صاحب کی اجازتِ بیعت کے بعد آپ ہزاروں مرد و خواتین کی اصلاحِ باطن کا ذریعہ بنے۔
آپ قول و فعل کے ساتھ ساتھ تحریر کے ذریعے بھی ختمِ نبوت کا دفاع اور پرچار کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ نے کئی چھوٹی بڑی کتب تحریر فرمائیں: