التخصص في ختم النبوة

التخصص في ختم النبوة
ودراسة القاديانية والمسيحية

سرپرست: حضرت مولانا محمد عتیق الرحمن صاحب  •  حضرت مولانا نور البشر صاحب


داخلہ رجسٹریشن
۱

اہداف و مقاصد

۱

عصر حاضر کے فکری و اعتقادی فتنوں کی علمی پہچان — شرکاء کو الحاد، قادیانیت، عیسائیت، ہندومت، بدھ مت اور دیگر قدیم و جدید فتنوں کے تاریخی پس منظر اور فکری بنیادوں سے واقف کرانا تاکہ وہ فتنوں کو جذبات کے بجائے علم کی روشنی میں سمجھ سکیں۔

۲

اسلام کے عقائد کا مضبوط اور مدلل فہم — توحید، رسالت، ختم نبوت، وحی، آخرت اور شریعت کے بنیادی عقائد کو قرآن، سنت اور امت کے اجماعی موقف کی روشنی میں اس طرح راسخ کرنا کہ طالب علم ہر باطل نظریے کے مقابلے میں اعتماد کے ساتھ کھڑا ہو سکے۔

۳

رد باطل کے لیے اصولی اور علمی منہج کی تربیت — مناظرہ کیسے کیا جائے؟ دلیل کو کیسے پیش کیا جائے؟ مخالف کے شبہات کو کیسے سمجھ کر جواب دیا جائے؟ تاکہ رد محض جذباتی یا اشتعال انگیز نہ ہو بلکہ علمی، مہذب اور مؤثر ہو۔

۴

اصولی علوم میں مہارت — اصولِ تفسیر، اصول فقہ، اصول مناظرہ اور اسماء الرجال کے ذریعے طالب علم میں یہ صلاحیت پیدا کرنا کہ وہ دلائل کو پرکھ سکے، روایات کا درجہ سمجھ سکے اور استدلال میں توازن اختیار کرے۔

۵

دعوت دین کی عملی تیاری — یہ کورس صرف کتابی علم تک محدود نہ رہے بلکہ دعوتی حکمت، مخاطب کی نفسیات اور زمانے کی زبان سمجھا کر علماء کو عملی دعوت کے قابل بنائے۔

۶

عربی و انگریزی میں دعوت و مکالمہ کی صلاحیت — عربی اور انگریزی تکلم کی عملی مشق کے ذریعے شرکاء کو اس قابل بنانا کہ وہ علمی نشستوں، بین المذاہب مکالمے اور جدید تعلیمی حلقوں میں مؤثر انداز سے اسلام کی نمائندگی کر سکیں۔

۷

امت کے فکری محاذ کی حفاظت — ایسے علماء تیار کرنا جو نئی نسل کے شکوک و شبہات کو سمجھ سکیں، سوشل میڈیا اور جدید ذرائع پر پھیلنے والے فتنوں کا بر وقت علمی جواب دے سکیں اور امت کو فکری انتشار سے محفوظ رکھ سکیں۔

۸

اختصاص یافتہ رجال کی تیاری — امت کو ایسے داعی فراہم کرنا جو ہر مسئلے میں بولنے کے بجائے جس میدان کے ماہر ہوں اسی میں بولیں اور یوں دعوت کا وقار اور اعتماد بحال ہو۔

۹

علمی دیانت اور اعتدال کا فروغ — رد کے نام پر تشدد اور فکری سطحی گفتگو سے بچتے ہوئے علمی دیانت، علم اور حکمت کو فروغ دیا جائے۔

۱۰

دین کی خدمت کو منظم رخ دینا — نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو عملی میدان فراہم کر کے دعوت دین کو ایک منظم، سنجیدہ اور دیرپا مشن کی صورت دینا۔

۲

مرکزی موضوعات

مرکزی
قادیانیت
مرکزی
عیسائیت
مرکزی
الحاد
مرکزی
ہندومت
مرکزی
عربی تکلم
مرکزی
انگریزی تکلم
۳

ذیلی موضوعات

ذیلی
آئی ٹی بیسک
ذیلی
یہودیت
ذیلی
منکرین حدیث
ذیلی
جہلمیت
ذیلی
غامدیت
ذیلی
شیعیت
ذیلی
بریلویت
ذیلی
غیر مقلدیت
ذیلی
مماتیت
ذیلی
اصول تفسیر
ذیلی
اصول حدیث
ذیلی
اصول فقہ
ذیلی
علم کلام
ذیلی
اصول مناظرہ
ذیلی
اصول تحقیق
ذیلی
اصول دعوت
۴

نظام و اوقات

صبح کا وقت
4 سے پانچ گھنٹے (گرمی و سردی کے حساب سے)
بعد ظہر
تقریباً 45 منٹ
مدت
۲۰ شوال — ۲۰ شعبان
پہلا حصہ دروس و محاضرات
دوسرا حصہ تکلم — عربی / انگریزی
تیسرا حصہ اسائنمنٹس، سٹڈی وغیرہ
سمسٹر ۳ سمسٹر — مرکزی موضوعات تینوں میں، ذیلی الگ الگ
امتحان ہر سمسٹر کی تمام سرگرمیوں پر مجموعی نمبر
خصوصی ذی استعداد شرکاء کو مستقل مقالہ بھی لکھنے کو دیا جا سکتا ہے
تعلیمی منہج
دروس و محاضرات
اسائنمنٹس
وائوا Viva Voce
پریکٹیکل
سیلف سٹڈی
گروپ سٹڈی
ذیلی شعبہ جات
تعلیمی
نصاب، دروس و اسباق کا انتظام
انتظامی
داخلہ، فیس و معاملات کا نظم
تشکیلی
شرکاء کی تربیت و تشکیل
۵

اساتذہ کرام

حضرت مولانا نور البشر صاحب استاد
مولانا ڈاکٹر الیاس فیصل صاحب استاد
دیگر کہنہ مشق اساتذہ کرام اساتذہ

داخلہ رجسٹریشن

نوٹ: اس شعبے میں کام کا طبعی ذوق رکھنے والے احباب کو ترجیح دی جائے گی اور اگر پہلے سے اس میدان میں کوئی خاص کام کر چکے ہوں تو ان کے لیے شرائط داخلہ میں بھی نرمی ہو سکتی ہے۔ امتحانی کمیٹی کا فیصلہ حتمی ہوگا۔